کروڑوں لوگوں کے بینکوں میں موجود اکاﺅنٹ غیرمحفوظ ہوگئے ہیں‘وزیرخزانہ ایوان کواعتماد میں لیں. احسن اقبال

پاکستانیوں کے بنک اکاﺅنٹس کا ڈیٹا عالمی بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے ..

سلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 نومبر۔2018ء) مسلم لیگ نون کے راہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے( ایف آئی اے) کے مطابق پاکستان کے تمام بینکوں کا ڈیٹا ہیک کرلیا گیا ہے، جس سے کروڑوں لوگوں کے بینکوں میں موجود اکاﺅنٹ غیرمحفوظ ہوگئے ہیں. قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایف آئی اے سے منسوب رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تمام بینکوں کا ڈیٹا ہیک کرنے کا معاملہ خطرناک ہے اورقومی سطح پراس کے مضمرات ہیں.
انہوں نے وزیرخزانہ سے بینکوں کا ڈیٹا ہیک ہونے کے معاملے پرایوان کواعتماد میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں لوگ کے بینکوں میں کھاتے ہیں اوران سب کے اکاﺅنٹ بھی غیرمحفوظ ہیں.
واضح رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے بیشتر بینکوں کا ڈیٹا ہیک ہو گیا ہے. اس حوالے سے ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کیپٹن ریٹائرڈ محمد شعیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر بینکوں کا ڈیٹا ہیک کر لیا گیا ہے.
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رپورٹ سامنے آنے کے بعد متاثرہ بینکوں کو بیرون ملک ادائیگیاں کرنے سے منع کر دیا ہے جن کے صارفین کا ڈیٹا ایک بین الاقوامی سائبر حملے میں چرا لیا گیا ہے. سٹیٹ بینک کے ترجمان کے مطابق جب تک یہ بینک اپنے آئی ٹی نظام میں کمزوریوں کو دور نہیں کر لیتے انھیں بیرون ملک اپنے کریڈٹ اور ڈیبیٹ کارڈز کے ذریعے ادائیگیاں نہیں کرنی چاہئیں.
لیکن پاکستانی بنکوں سے چرائی گئی صارفین کی معلومات بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں بیچنے کا سکینڈل کتنا بڑا ہے اور اس میں کتنے صارفین اور بینک متاثر ہوئے ہیں اس بارے میں نئی معلومات سامنے آ رہی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سکینڈل ابتدائی اندازوں سے کہیں بڑا ہے. تازہ ترین لیکن غیر مصدقہ معلومات جو انٹرنیٹ سیکورٹی کی بعض نجی کمپنیوں نے جمع کی ہیں کے مطابق جب تک حاصل شدہ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے 20سے زائد بنکوں کے 20ہزار صارفین کا ڈیٹا اب تک بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے آ چکا ہے.
بتایا جارہا ہے کہ ہیکروں کے ایک گروہ نے 27 اور 28 اکتوبر کی درمیانی رات بین الاقومی سطح پر بعض بینکوں کے صارفین کے ڈیٹا کو فروخت کے لیے بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں پیش کیا. ان میں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں صارفین کا ڈیٹا تھا جس میں ان صارفین کے ڈیبیٹ اور کریڈٹ کارڈ نمبرز اور خفیہ کوڈ تک شامل تھے. بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں جن لوگوں نے یہ ڈیٹا حاصل کیا انھوں نے فوراً ہی ان صارفین کے کارڈز استعمال کر کے رقم نکالنا اور کریڈیٹ کارڈز سے خریداری شروع کر دی.
ابتدائی طور پر اندازہ لگایا گیا تھا کہ چند پاکستانی بنکوں کے 8 ہزار صارفین کا ڈیٹا چوری ہوا ہے. لیکن اب تک حاصل شدہ معلومات کے مطابق متاثر ہونے والے بنکوں کی بیرون ملک بعض شاخیں بھی اس ڈیٹا چوری سکینڈل سے متاثر ہوئی ہے. سیکورٹی کمپنیوں کے مطابق بین القوامی بلیک مارکیٹ میں پاکستانی صارفین کا ڈیٹا نسبتاً سستے داموں فروخت کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہیکرز نے ان صارفین کے اکاﺅنٹس سے پیسے نکلوانے کے بعد ان کی ڈیٹا فروخت کے لیے پیش کیا ہے.
اس ڈیٹا کی قیمت فی بنک برانچ ایک سو سے دو سو ڈالر کے درمیان لگائی گئی ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ کتنے پاکستانی بنکوں اور صارفین کی معلومات چوری ہوئی ہیں‘ اس بارے میں معلومات یا بنکوں کے پاس ہو سکتی ہیں جو وہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں یا سیکیورٹی کمپنیوں کو ان کے بارے میں اسی وقت پتہ چلے گا جب یہ ڈیٹا بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا.
یہ ڈیٹا فروخت کے لیے پیش ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی بعض پاکستانی صارفین کے ڈیبیٹ اور کریڈیٹ کارڈز مختلف ملکوں میں استعمال ہونے کی اطلاعات سامنے آنا شروع ہو گئیں. ان صارفین نے جب اپنے کارڈز استعمال ہونے کے پیغامات اپنے فونز پر دیکھے تو انھوں نے اپنے بینکوں کو بتایا جس کے بعد بینکوں کو اندازہ ہوا کہ ان کے نظام پر نقب لگ چکی ہے. ان بینکوں نے فوی طور پر متاثرہ کارڈز کو بلاک کر دیا‘ اس دوران کتنے پیسے پاکستانی بینکوں سے چوری کر لیے گئے اس کے بارے میں ابھی تک حتمی رقم سامنے نہیں آ سکی ہے