وفاقی حکومت کا اسمگل شدہ موبائل فونز کے خلاف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ، 31 دسمبر کی مہلت کے بعد اسمگل ہونے والے موبائل فون بند ہو جائیں گے، یہ پابندی نئے موبائل فونز پر لاگو ہوگی، پہلے سے زیر استعمال موبائل فونز تصدیق کروانے کی صورت میں بلاک نہیں کیے جائیں گے

31 دسمبر کے بعد ملک میں سمگل شدہ موبائل فونز بلاک کرنے کا اعلان، وفاقی حکومت کا اسمگل شدہ موبائل فونز کے خلاف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ، 31 دسمبر کی مہلت کے بعد اسمگل ہونے والے موبائل فون بند ہو جائیں گے، یہ پابندی نئے موبائل فونز پر لاگو ہوگی، پہلے سے زیر استعمال موبائل فونز تصدیق کروانے کی صورت میں بلاک نہیں کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے اسمگل شدہ موبائل فونز کے خلاف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 13 دسمبر کی مہلت کے بعد اسمگل ہونے والے موبائل فون بند ہو جائیں گے۔ مقامی طور پر بننے والے موبائل فونز کی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔ اس بات کا فیصلہ جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔
اس حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 82 ملین کے موبائل فونز پر ٹیکس ادا ہو رہا ہے۔ ڈھائی ارب روپے کے موبائل فونز غیر قانونی طریقے سے آ رہے ہیں جن پر ٹیکس ادا نہیں ہو رہا۔ اسی لیے اب اسمگل شدہ موبائل فونز کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ 31 دسمبر کی مہلت کے بعد اسمگل ہونے والے موبائل فون بند ہو جائیں گے۔
جبکہ مقامی طور پر بننے والے موبائل فونز کی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔ وزیراطلاعات نے مزید بتایا ہے کہ 31 دسمبر تک پہلے سے استعمال شدہ موبائل فونز کی اگر تصدیق کروا لی جائے، تو ایسے میں یہ موبائل فونز بلاک نہیں کیے جائیں گے۔ تاہم 31 دسمبر کے بعد پاکستان میں آنے والے تمام سمگل شدہ موبائل فونز بلاک کر دیے جائیں گے۔
0 Comments