اسلام آباد :سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے میں پسماندہ علاقوں کو ترجیح دینے کی سفارش کردی ، متعلقہ حکام نے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبہ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایاکہ ملک کے 7 شہروں کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر رجسٹریشن کیلئے منتخب کیا ہے، رجسٹریشن فارم 250 روپے میں جمع کرایا جا رہا ہے، مکان تین سے پانچ مرلے پر مشتمل ہو گا.
یو اے ای اور چین نے بھی منصوبے میں شرکت کی دلچسپی ظاہر کی ہے، پاکستان میں 31.96 ملین مکانات ہیں اور12 ملین مکانات کی کمی ہے۔ سالانہ 7 لاکھ گھروں کی طلب ہے جبکہ اڑھائی لاکھ سالانہ نئے گھر بنائے جا رہے ہیں۔ بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی صدارتمیں ہو ا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کے کم لاگت کے 50 لاکھ گھروں کے منصوبے ،آئینی اداروں میںرہائشی پلاٹوں کیلئے آئینی کوٹے کی خلاف ورزی ، فیڈرل گورنمٹ ایمپلائز ہاوسنگ فاونڈیشن کی ایف 14/15 کی ہاسنگ سکیم کے حوالے سے ہائیکورٹ کی ججمنٹ ، اسلام آباد میں سرکاری گھروں پر غیر قانونی قبضے کے علاوہ مقامی شہری باز محمد کی عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کے نئے پاکستان ہاو¿سنگ منصوبے جو کم سے کم لاگت سے50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبہ کے حوالے سے وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس چوہدری طارق بشیر چیمہ اور سیکرٹری وزارت ہاو¿سنگ اینڈ ورکس ڈاکٹرعمران زیب خان نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا یہ ایجنڈا ہے اور ان کے منشور کا حصہ ہے کہ پاکستان کی غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ سستے گھر فراہم کیے جائیں اس حوالے سے متعلقہ محکموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو سفارشات تیار کر رہی ہے بہتر یہی ہوگا کہ ایک ما ہ بعد تفصیلی بریفنگ حاصل کی جائے۔