نوجوان نے نیا چارجر ایجادکرلیا، ہاتھ سے گھمانے پر فون چارج کرے گا

اب سمارٹ فون انسانی جسم سے چارج کیے جا سکیں گے۔ ہینڈ انرجی نام کی ڈیوائس میں لگے gyroscope سنسر حرکت کرنے پر ایکٹیویٹ ہوکر توانائی پیدا کرتے ہیں۔ اس توانائی کو محفوظ بھی کیا جاسکتا ہے اور اس سے فوراً ہی موبائل فون بھی چارج کیا جا سکتا ہے۔اس ڈیوائس سے موبائل چارج کرنے کےلیے ہاتھ سے ڈیوائس کو گھمانا پڑتا ہے۔
کک سٹارٹر پر فنڈ ریزنگ کی مہم میں اس ڈیوائس کے لیے اب تک 50872 یورو جمع ہو چکے ہیں۔
کک سٹارٹر پر فنڈ ریزنگ کی مہم میں اس ڈیوائس کے لیے اب تک 50872 یورو جمع ہو چکے ہیں۔
اس ڈیوائس کو ایک 19سالہ موجد مائیکل ویگا نے ایجاد کیا ہے۔
مسٹر ویگا کا تعلق منسک، بیلاروس سے ہے۔ ویگا کا کہنا ہے کہ ڈیوائس کر گھمانے سے اس میں لگے روٹر کی رفتار تیز ہوتی جاتی ہے اور یہ زیادہ پاور جنریٹ کرتا ہے۔ اس کی اوسط رفتار 5000آر پی ایم ہے۔
ویگا کا کہنا ہے کہ اس ڈیوائس کو بنانے میں اسے 1سال لگا ہے۔ یہ ایسے لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے جو زیادہ تر سفر میں رہتے ہیں۔
یہ ڈیوائس فون کو 40 منٹ سے ایک گھنٹے تک مکمل طور پر چارج کرسکتی ہے۔ اگر فون استعمال بھی ہوتا رہے تو یہ رفتار 30فیصد کم ہوجاتی ہے۔
اس ڈیوائس کو مارچ 2017 میں 99 یورو میں فروخت کیا جائے گا۔
ویگا کا کہنا ہے کہ اس ڈیوائس کو بنانے میں اسے 1سال لگا ہے۔ یہ ایسے لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے جو زیادہ تر سفر میں رہتے ہیں۔
یہ ڈیوائس فون کو 40 منٹ سے ایک گھنٹے تک مکمل طور پر چارج کرسکتی ہے۔ اگر فون استعمال بھی ہوتا رہے تو یہ رفتار 30فیصد کم ہوجاتی ہے۔
اس ڈیوائس کو مارچ 2017 میں 99 یورو میں فروخت کیا جائے گا۔

0 Comments